شاعر مشرق ‘مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا142واں یوم ولاد ت مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب‘پاک بحریہ کے جوانوں نے فرائض سنبھالے – Oil & Gas sector News & Informations

شاعر مشرق ‘مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا142واں یوم ولاد ت مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب‘پاک بحریہ کے جوانوں نے فرائض سنبھالے

Home > Special Report > شاعر مشرق ‘مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا142واں یوم ولاد ت مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب‘پاک بحریہ کے جوانوں نے فرائض سنبھالے

شاعر مشرق ‘مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا142واں یوم ولاد ت مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب‘پاک بحریہ کے جوانوں نے فرائض سنبھالے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 نومبر۔2018ء) شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا 141واہ یوم پیدائش آج ملک بھرمیں عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے. علامہ اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے، ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا. انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا. شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا اور اس شوق کو فروغ دینے میں آپ کے ابتدائی استاد مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا. ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے.

(جاری ہے)

جس کے بعد 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور قانون کی ڈگری حاصل کی، یہاں سے آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی.

ابتداءمیں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا. وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا جبکہ 1922 میں حکومت کی طرف سے سَر کا خطاب ملا. آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے. 1930 میں آپ کا الہٰ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے، اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا. آپ کی تعلیمات اور قائد اعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا.لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938 کو علامہ انتقال کر گئے تھے تاہم ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی. جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی. شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی. یہی وجہ ہے کہ کلامِ اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانانِ عالم اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں. اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا، ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں. علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر لاہور میں ان مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی، پاک بحریہ کے جوانوں نے گارڈز کے فرائض سنبھالے. شاعر ِمشرق، مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری ہر عہد کیلئے ہے، ،دلوں میں ولولہ پیدا کرنے والاکلا م اقبال انسان کو تخیل کی بلند یوں پر لے جاتا ہے. علامہ اقبال کی ولولہ انگیز شاعری نے دلوں کی دنیا بدلی اور پاکستان کی صورت مسلمانوں کے لیے ایک آزاد خطہ ارضی کو وجودمیں لانے کے لیے اس نے بہت اہم کردار ادا کی . ایران کے مشہورشہر مشہد میں ایک شاہراہ شاعرمشرق علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کے نام سے منسوب ہے جسے ”بولیوارڈ اقبالِ لاہوری“ کے نام سے جانا جاتا ہے. یاد رہے کہ شاعرِمشرق علامہ محمد اقبال نے کبھی بھی ایران کا دورہ نہیں کیا تاہم ان کے فارسی کلام کی وجہ سے ایرانی قوم انہیں بہت زیادہ پسند کرتی ہے. ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی. علامہ اقبال اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا مگر قدرت کی منشاءسے پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ءمیں علامہ اقبال انتقال کر گئے تھے.  صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ منزل کے حصول کے لیے اقبال کے تصور کوحقیقت میں بدلتے ہوئے سخت محنت کریں. صدر پاکستان نے یوم اقبال کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن ہمیں علامہ اقبال کے ارشادات پرعمل کرنے کی یاد دلاتا ہے. ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے مفکراسلام کے فرمودات پرکتناعمل کیا. انہوں نے کہا کہ مسلمانانِ برصغیرکے لیے الگ وطن کا تصور پیش کرنے پر علامہ اقبال کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، علامہ اقبال کے فرمودات اسلام کا حقیقی پیغام سمجھنے میں مددگارہیں. صدرمملکت نے کہا کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے”خودی“ کو بیدار کیا. ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ آج پاکستان کوکثیرالجہتی چیلنجرکا سامنا ہے، مذہبی انتہا پسندوں نے اسلام کی اصل روح اورپیغام کومسخ کیا. صدرِ پاکستان نے مزید کہا کہ اقبال کے خواب کوحقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی کاوشوں کو بروئے کار لائیں، منزل کے حصول کے لیے اقبال کے تصورکوحقیقت میں بدلتے ہوئے سخت محنت کریں.  یوم اقبال پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علامہ اقبال نے مسلمانانِ برصغیر کو ایک ایسے وقت میں راستہ دکھایا جب وہ غلامی کے اندھیروں میں منزل کا سراغ کھوچکے تھے. انہوں نے کہا کہ شاعر مشریق کے افکار اور سوچ نے امید کا وہ چراغ روشن کیا جس نے نہ صرف منزل بلکہ راستے کی بھی نشاندہی کی، پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے. عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یوم اقبال پر عام تعطیل کی بجائے برصغیر کے عظیم مفکرکی سوچ اور فکر کو اجاگر کرنے کے لئے حکومتی سطح پر خصوصی پروگرامز کا اہتمام کیا جائے. وزیراعظم نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اتحاد، اتفاق کی تلقین کی اور دعوتِ عمل دی. انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے افکار اورسوچ نے امید کے چراغ روشن کیے، انہی چراغوں نے منزل اور راستے کی نشاندہی کی.انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اور انتہاپسندی پر اقبال کی سوچ آج بھی مشعل راہ ہے، علامہ اقبال نے جن مسائل کی پیشگوئی کی آج ہمیں انھی کا سامنا ہے. انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کے نزدیک عمل ہی زندگی ہے، خودی پر عمل سے پاکستان کو اقوام عالم میں اصل مقام دلا سکتے ہیں، عظیم مفکر کی فکر اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر خصوصی پروگرام کیے جائیں.

Please follow and like us:
20

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial